شیخ بہاء الدین محمد عاملی ؛ ایسا عالم وعارف اور دانشور جس نے صدیوں پہلے نہ فقط پتھر اور مٹی بلکہ اس جگہ کی روح کی بھی انجنینرنگ کی ، وہ شخصیت جس کا مزار روضہ منورہ امام رضا(ع) میں ہے جس نے یہ ثابت کر کے دکھایا کہ اسلامی فن تعمیر صرف دیواریں کھڑی کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ زمین اور آسمان کے درمیان ایک پل تعمیر کرنے کا نام ہے ۔
جس زمانے میں صفوی خاندان شیعیت کی بنیادیں مضبوط کر رہا تھا اورمذہبی مراکز کو آباد کر رہا تھا اس وقت شیخ بہائی علوم فلکیات و ریاضیات سے لے کر فقہ و فلسفہ تک کے علوم سے آراستہ ہو کر مشہد مقدس پہنچے لیکن صرف پڑھانے نہیں آئے تھے بلکہ تعمیر کرنے آئے تھے ، اس زمانے میں ان کی حکومتی اور مذہبی نظام میں موجودگی حرم امام رضا(ع) کی معماری میں تاریخی موڑ سمجھا جاتا ہے ،شیخ بہائی(رح) کا عقیدہ تھا کہ خدا کے گھر کی تعمیر الہیٰ نظام کی تجلی گاہ ہے ۔
شیخ بہائی (رح) روشنی کو کیسے قابو کرتے تھے؟ کھڑکیوں اور گنبد خانوں کے درست ڈیزائن کے ذریعے وہ روشنی کو اس طرح سے ہدایت کرتے کہ دن کے خاص اوقات میں حرم کا اندرونی حصہ ایک نرم اور روح پرور روشنی سے بھر جاتا،ایسی روشنی جو زائر کو باہر کے ہنگاموں سے الگ کرکے اسے اندر کی تنہائی لے جاتی یہ وہی ’’نور کی معماری‘‘ ہے جسے شیخ بہائی ایک تکنیک نہیں سمجھتے تھے بلکہ ایک عبادت سمجھتے تھے۔
شیخ بہائی (رح) کا مقبرہ صحن آزادی سے متصل حجروں میں سے ایک حجرے میں ہے جو امام کے طلائی گنبد کے سائے میں واقع ہے ، امام رضا(ع) کے زائرین مولا کو سلام پیش کرنے کے بعد اس حکیم فرزند کی قبر پر بھی جاتے ہیں اور اس کی قبر پر فاتحہ خوانی کرتے ہیں ۔
آج ہم یوم معماری منا رہے ہیں حرم امام رضا(ع) کے تناظر میں شیخ بہائی کو یاد کرنا آج کے معماروں کے لئے خاص پیغام رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اصیل معماری وہ ہے جو انسان کو اپنا محور بنائے ۔
شیخ بہائی (رح) نے حرم امام رضا(ع) میں ایسی فضا تخلیق کی جس میں کوئی ستون گنبد کو دیکھنے میں رکاوٹ نہیں ، کوئی دیوار روحانیت کی بہتی ہوا کو نہیں روک سکتی اور کوئی بھی نور دل کی آنکھ کو نہیں چبھتا۔
آستان قدس رضوی کے مرکز مطالعات اسلامی کی حالیہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ شیخ بہائی کے ڈیزائن کے اصول ’’ماحول کے ساتھ ہم آہنگی‘‘ پر مبنی تھے ۔
آج، شیخ بہائی کے یوم تکریم پر، حرم مطهر رضوی محض ایک تاریخی عمارت نہیں ہے؛ بلکہ ایک زندہ جامعہ اور عظیم درسگاہ ہے جو "عزم"، "علم" اور "فن" کا سبق دیتی ہے۔ ہر نازک کاشی کاری، کتبوں کا ہر خوبصورت خط، اور ہر فیروزی گنبد یہ پکار رہا ہے کہ ایرانی-اسلامی فن وہ فن نہیں ہے جو عجائب گھروں میں قید ہو جائے؛ یہ وہ فن ہے جو لوگوں کی زندگی اور روحانیت کی خدمت میں رواں دواں ہے۔
شیخ بہائی اس دنیا میں نہيں رہے لیکن ان کا خاموش کلام حرم کی دیواروں میں باقی ہے ،انہوں ںے ہمیں سکھایا کہ ایک انسان انجینئر بھی ہو سکتا ہے اور صوفی بھی۔ ماہر ریاضیات بھی ہو سکتا ہے اور عاشق بھی۔
حسین زوارزاده
ماخذ:
۱. آستان قدس رضوی، معاونت پژوهشهای اسلامی، «تاریخچه توسعه و عمران حرم مطهر رضوی در دوره صفویه»، انتشارات آستان قدس رضوی، ۱۴۰۲.
۲. هنرفر، لطفالله، «گنجینهی آثار تاریخی مشهد»، جلد دوم: معماری و ابنیه، انتشارات توس، ۱۳۹۹.
۳. شیبانی، احمد، «شیخ بهایی و نقش او در معماری اسلامی ایران»، فصلنامهی هنر و معماری، شماره ۴۵، ۱۴۰۱، صص ۱۲–۲۸.
۴. سازمان میراث فرهنگی، صنایع دستی و گردشگری خراسان رضوی، «گزارش فنی بررسی سازهای گنبد اللهوردیخان و انتساب طرحهای اصلاحی به شیخ بهایی»، ۱۴۰۳.
۵. مجلسی، محمدباقر (علامه مجلسی)، «بحارالانوار»، جلد ۱۰۲، بابِ مناقبِ شیخ بهایی، نشر الاسلامیه، بیروت.
۶. پاکزاد، فرهاد، «مبانی نظری و فرآیند طراحی معماری»، انتشارات شهیدی، ۱۳۹۸ (بخش تحلیل معماری سنتی و نورپردازی).
۷. آرشیو مرکزی آستان قدس رضوی، اسنادِ وقفنامهها و فرمانهای شاه عباس اول دربارهی مشارکت شیخ بهایی در پروژههای عمرانی حرم.
۸. رضوی، سیدمحمد، «نمادشناسی نور در معماری حرمهای امامان شیعه»، پایاننامه دکتری معماری، دانشگاه فردوسی مشهد، ۱۴۰۰.